MuHarram ul Haram



اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام ہے۔ محرم کو محرم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس ماہ میں جنگ و قتال حرام ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے اور اس مہینہ میں عاشورہ کا دن بہت معظم ہے یعنی دسویں محرم کا دن ۔ (فضائل الایام والشہور صفحہ ٢٥١)
یومِ عاشورہ

عاشورہ کی وجہ تسمیہ میں علما ء کا اختلاف ہے اس کی وجہ مختلف طور پر بیان کی گئی ہے ، اکثر علماء کا قول ہے کہ چونکہ یہ محرم کا دسواں دن ہوتا ہے اس لئے اس کو عاشورہ کہا گیا، بعض کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بزرگیاں دنوں کے اعتبار سے امت محمدیہ کو عطا فرمائی ہیں اس میں یہ دن دسویں بزرگی ہے اسی مناسبت سے اس کو عاشورہ کہتے ہیں ۔

یوم عاشورہ کی فضیلت

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہودیوں کو عاشورا کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا : اس دن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا کیا۔ ہم اس کی تعظیم کرتے ہوئے اس کا روزہ رکھتے ہیں ۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ قریب ہیں، چنانچہ آپ نے اس کا روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (مکاشفۃ القلوب، صفحہ ٦٩٨ از امام محمد غزالی علیہ الرحمہ )

یومِ عاشورہ کے فضائل میں بکثرت روایات آتی ہیں ۔ اس دن حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہوئی، اس دن ان کی پیدائش ہوئی، اسی دن جنت میں داخل کیے گئے۔ اسی دن عرش، کرسی ، آسمان وزمین، سورج ، چاند ستارے اور جنت پیدا ہوئے۔ اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام پیداہوئے، اسی دن انہیں آگ سے نجات ملی، اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کو نجات ملی اور فرعون اور اس کے ساتھی غرق ہوئے ۔ اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے ، اور اسی دن وہ آسمان پر اٹھالیے گئے۔ اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو بلند مقام (آسمان) پراٹھالیا گیا۔ اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی جودی پہاڑ پر لگی۔ اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی ۔ اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو عظیم سلطنت عطا ہوئی ۔اسی دن حضرت یعقوب علیہ السلام کی بینائی واپس ہوئی ۔ اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف دُور ہوئی۔ اسی دن زمین پر آسمان سے پہلی بارش ہوئی۔ (مکاشفۃ القلوب ، صفحہ ٦٩٩)

نوافل برائے شبِ عاشورہ:

٭ جو شخص اس رات میں چار رکعات نماز پڑھے اور ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد پچاس ٥٠ مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے تو اللہ عزوجل اس کے پچاس برس گزشتہ اور پچاس سال آئندہ کے گناہ بخش دیتا ہے۔ اور اس کے لئے ملاءِ اعلیٰ میں ایک محل تیار کرتا ہے۔

٭ اس رات دو ٢ رکعات نفل قبر کی روشنی کے واسطے پڑھے جاتے ہیں جن کی ترکیب یہ ہے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین مرتبہ سورہ اخلاص پڑھے۔ جو آدمی اس رات میںیہ نماز پڑھے گا تو اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت تک اس کی قبر روشن رکھے گا۔

عاشورے کے روزے رکھنے کی فضیلت:

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: اگر مومن اللہ کی راہ میں روئے زمین پر مال خرچ کرے تو اسے (اس قدر) بزرگی حاصل نہ ہوگی جس قدر کوئی عاشورے کے روز روزہ رکھے۔ اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھل جائیں ، وہ جس دروازے سے داخل ہونا پسند کرے گا داخل ہوگا۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٦)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جو شخص عاشورے کے دن روزہ رکھے پس شب و روز کی ساعتوں میں ہر ساعت اللہ تعالیٰ اُن ساعتوں کی ہر ساعت کے بدلے اس پر سات لاکھ فرشتے نازل فرمائے گا جو قیامت تک دعا اور استغفار کریں گے اور بے شک اللہ تعالیٰ کی آٹھ جنتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہر بہشت میں ساٹھ لاکھ فرشتے مقرر کرے گا کہ (عاشورے کے روزے دار کےلئے ) روزہ رکھنے کے دن سے اس بندے اور بندی کی موت تک محلات اور شہر تعمیر کرے ، درخت اُگائیں، نہریں جاری کریں۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٦)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جس شخص نے عاشورے کے دن کا روزہ رکھا اس کا اجر توریت، انجیل ، زبور اور قرآن میں جتنے حرف ہیں ان کی تعداد کے مطابق ہر حرف پر بیس نیکیاں ہونگی۔ جس شخص نے عاشورے کے دن کا روزہ رکھا اسے ایک ہزار شہیدوں کا ثواب ملے گا۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٦)

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: جس شخص نے عاشورے کے دن کا روزہ رکھا خاموشی اور سکوت میں وہ روزہ اس کے اُس سال کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ ہوگا، اور جو شخص کامل قیام، رکوع اور سجود کے ساتھ دو رکعت نماز خضوع سے پڑھے اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس بندے کی جزا کیا ہونی چاہیے پس فرشتے عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ تو ہی خوب جانتا ہے پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس کے حساب میں ہزار ہزار نیکیاں لکھی جائیں اور ہزار ہزار بدی مٹادی جائیں۔ اس کارتبہ ہزار ہزار درجے بلند کیا جائے۔ ہم نے اپنی بزرگی کے ہزار ہزار دروازے کھول دیے ہیں جو اس پر کبھی بند نہ کیے جائیں گے۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٦)

ایصالِ ثواب برائے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

امیر المومنین امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، کے ایصال ثواب کیلئے دورکعات نماز ادا کرے اور دونوں رکعتوں میں فاتحہ کے بعد دس بار سورہ اخلاص پڑھے ۔ سلام کے بعد نو ٩ نو ٩ بار آیت الکرسی اور درود شریف پڑھے۔ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اس روز دو رکعت نماز ادا فرماتے تھے۔ اس کی پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد اَلَمْ نَشْرَحْ اور دوسری میں اِذَاجَآءَ پچیس پچیس بار پڑھے۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٨)

ہر حاجت پوری ہوگی (انشاء اللہ)
جو شخص عاشورے کے روز حاجت کے لیے یہ دعا مانگے اس کی حاجت پوری ہوگی

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم اِلٰہِیْ بُحُرْمَتِ الْحُسَیْنِ وَ اَخِیْہِ وَ اُمِّّہِ وَ اَبِیْہِ وَجَدِّہِ وَ بَنِیْہِ فَرِّجْ عَمَّا اَنَا فِیْہِ وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہ  مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ  اَجْمَعِیْنَ
(ترجمہ) اللہ کے نام سے شروع بڑا مہربان نہایت رحم والا۔ اے اللہ! حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اُن کے بھائی، اُن کی والدہ، اُن کے والد اور اُن کے نانا کی حرمت کے واسطے سے میں جس حاجت میں ہوں وہ مجھ پر کھول دے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بہترین خلائق محمدا پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام آل پر رحمت فرما۔ (لطائف اشرفی ، صفحہ ٣٣٨)

یومِ عاشورہ کے ممنوعات:

عاشورہ کے دن سیاہ کپڑے پہننا، سینہ کوبی کرنا، کپڑے پھاڑنا، بال نوچنا، نوحہ کرنا، پیٹنا، چھری چاقو سے بدن زخمی کرنا جیسا کہ رافضیوں کا طریقہ ہے حرام اور گناہ ہے اِیسے افعال شنیعہ سے اجتناب ِ کلی کرنا چاہیے۔ ایسے افعال پر سخت ترین وعیدیں آئی ہیں جن میں سے چند تحریر کی جاتی ہیں:

حدیث ١:
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ  وسلم نے کہ ہمارے طریقے پر وہ نہیں ہے جو رخساروں کو مارے اور گریبان پھاڑے اور پکارے جاہلیت کا پکارنا۔ (فضائل الایام والشہور ، صفحہ ٢٦٤۔ بحوالہ مشکوۃ صفحہ ١٥٠)

حدیث ٢:
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، نے فرمایا کہ ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، پر بے ہوشی طاری ہوگئی پس آئی اس کی عورت جس کی کنیت ام عبداللہ تھی اس حال میں رونے کے ساتھ آواز کرتی تھی۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو کہا کیا تو نہیں جانتی اور تھے ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جو اس کو خبر دے رہے تھے کہ پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا: میں بیزار ہوں اس شخص سے جو بال منڈائے اور بلند آواز سے روئے اور کپڑے پھاڑے۔

حدیث ٣:
سیدنا حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار خصلتیں میری امت میں جاہلیت کے کام سے پائی جاتی ہیں فخر کرنا، اپنے حسب میں طعن کرنا، عیب نکالنا لوگوں کی نسب میں، بارش طلب کرنا ستاروں سے اور ماتم میں نوحہ کرنا۔ اور فرمایا نوحہ کرنے والی مرنے سے قبل توبہ نہ کرے تو قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی اس حال میں کہ گندھک کی قمیص اس پر ہوگی اور ایک قمیص خارش والی ہوگی۔


محرم الحرام میں وفات پانے والے بزرگان دین رضی اللہ عنہم اجمعین

یکم محرم الحرام
٭خلیفہ دوم امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ،٭حضرت ابو بکر محمد بن ابراہیم سوسی ٣٨٦ھ ٭حضرت شیخ الشیوخ ابو حفص شہاب الدین عمر سہروردی ٦٣٢ھ ٭حضرت شاہزادہ محمد داراشکوہ قادری ١٠٧٠ھ ٭حضرت جیو مجددی پشاوری

٢ محرم الحرام
٭حضرت شیخ اسد الدین معروف کرخی محکم الافلاک ٢٠٠ھ ٭حضرت ابو عبدالرحمن حاتم اصم ٢٣٧ھ ٭حضرت احمد بن عبدالواسع ٦٠٩ھ ٭حضرت سید عقیق اسواد ابدال ١٠٠٠ھ ٭حضرت خواجہ معین الدین نقشبندی کشمیری ١٠٨٥ھ

٣محرم الحرام
٭حضرت شیخ سعید قیروانی ٢١١ھ ٭حضرت شیخ تقی الدین احمر صوفی ٥٩٥ھ ٭حضرت مخدوم سالار نوشہ صفات فیض آبادی ٩٨٩ھ ٭حضرت شاہ محی الدین دہلوی ١٢٨٩ھ ٭حضرت حافظ عبدالستا خالصپوری ١٢٩٨ھ ٭حضرت ابو الحسن تہکاری

٤ محرم الحرام
٭امام الاولیا حضرت سیدنا خواجہ حسن بصری ٭حضرت سید حمید لاہوری ١٠٩٠ھ ٭حضرت اخون درویزد نگرہاری ٨٩٧ھ ٭حضرت میر محمد بن احمد کشمیری ١٠١١ھ ٭حضرت میر فضل علی لاہوری ١١٦٠ھ ٭

٥ محرم الحرام
حضرت رفیع الدین مجذوب قلندری٭حضرت شیخ حجاج سرقندی ٣٤٢ھ حضرت ابو الفرح یوسف طرطوسی ٤٦١ھ ٭حضرت عوض علی شاہ ٭حضرت فردالاولیا شیخ العالم خواجہ فرید الدین مسعود گنج شکر ٦٦٤ھ ٭حضرت ابو اسحق لاہوری٩٨٥ھ ٭حضرت خواجہ احمد مہروی چشتی ١٣٣٠ھ

٦ محرم الحرام
٭حضرت سیدی عبداللہ بن مسلمہ قعبنی ٢٢١ھ ٭حضرت ابو القاسم ابراہیم نصرآبادی ٣٦٧ھ

٧ محرم الحرام
٭حضرت سید امام مہدی بن امام حسین رضی اللہ عنہ،٭حضرت امام احمد غزالی ٥١٧ھ ٭حضرت سید شہاب الدین احمد قسطلانی ٩٢٣ھ ٭حضرت حاجی محمد ہاشم گیلانی لاہوری ١٠٨٧ھ ٭حضرت شیخ محمد عاشق معشوف صفات ١١٩٩ھ ٭حضرت شاہ محمد آفاق ١٢٥١ھ ٭حضرت فضیل بن عیاض

٨ محرم الحرام
٭حضرت سیدی ابی نعیم احمد اصفہانی (صاحب مستخرج صحیح مسلم) ٤٠٣ھ ٭حضرت شیخ ابو الفتح بغدادی ٩٥٩ھ ٭حضرت شیخ محمد طاہر لاہوری ١٠٤٠ھ ٭حضرت شاہ محمد آفاق نقشبندی مجددی ١٢٥١ھ ٭مناظر اہلسنّت مولانا حشمت علی خاں ١٣٨٠ھ ٭شیخ عبدالغفور اخوند

٩ محرم الحرام
٭حضرت شیخ جعفر کوفی ٢٢٢ھ ٭حضرت شیخ ابو القاسم میردانی٢٧٨ھ ٭حضرت شمس الدین مرزا مظہر جان جانان الملقب بہ حبیب اللہ ٥٩٠ھ ٭حضرت سید بہاؤالدین عرف محمود کرخی ٦٠٢ھ ٭حضرت ابو الفتح حفظی کنتوری لکھنوی١٢٠٤ھ ٭حضرت خواجہ گل محمد احمد پوری ١٢٤٣ھ ٭حضرت سیدنا علی ہجویری داتا گنج بخش

١٠ محرم الحرام
٭ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالیٰ عنہا٭ حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عہنما ٦٠ھ ٭حضرت خواجہ ابو الفر بُشر حافی بغدادی ٢٢٧ھ٭حضرت شیخ فارس ٣٤٢ھ ٭حضرت ابو الحسن علی فرقانی ٤٤٥ھ ٭حضرت شیخ شہاب الدین یحییٰ مقبول سہروردی ٥٧٧ھ ٭حضرت اوحد الدین عبداللہ بلیانی ٦٨٦ھ ٭حضرت شاہ لطف اللہ ٨٧١ھ ٭مولوی برکت اللہ مارہروی ١١٤٢ھ٭حضرت اخوند حافظ عبدالعزیز دہلوی١٢٩٦ھ ٭حضرت سید شاہ برکت اللہ مارہروی ١١٤٣ھ

١١ محرم الحرام
٭حضرت ابو بکر محمد رازی ٣١٠ھ ٭حضرت شیخ بنان جمال مصری ٣١٦ھ ٭حضرت احمد بن محمد معروف بہ شیخ جعفر الخداد بصری ٣٤١ھ ٭حضرت عبداللہ شامی ٣٥٧ھ ٭حضرت ابو الفضائل عین القضاہ عبداللہ ہمدانی ٥٣٣ھ ٭حضرت ابو عمر و عثمان قرشی ٥٦٤ھ ٭حضرت سلمان ملتانی ٧٣٧ھ ٭حضرت خواجہ محمد یحییٰ بن خواجہ احرار ٩٠٦ھ ٭حضرت شیخ حسین خوارزمی ٩٥٦ھ ٭حضرت سید نورالدین بغدادی ٩٩٩ھ ٭حضرت حافظ برخوردار گنگوہی ١١٦٢ھ ٭حضرت خواجہ عبدالباقی حیات الجسد ١٢٠١ھ ٭حضرت مولانا غریب شاکر آزاد ١٢٦٧ھ

١٢ محرم الحرام
٭حضرت ابو محمد سہیل بن عبداللہ تستری ٢٨٣ھ ٭حضرت ابو بکر علی طرطوسی ٣٧٤ھ ٭حضرت شیخ محمد قادری بغدادی ٦٢٧ھ ٭حضرت محی الدین عربی مکی ٦١٣ھ ٭حضرت شیخ فخر الدین محبوبی ٧٢٧ھ ٭حضرت شیخ محمد سعدی وجوب حیرت ٨١٩ھ ٭حضرت ابو الفضل محمد بغدادی ٨٤٦ھ ٭حضرت سید غیاث اللہ کانپوری ١١٣٧ھ ٭حضرت حاجی عبداللہ آبریز مکی ١٢٠٠ھ ٭شیخ صفی الموسوی٭حضرت خواجہ محمد ضیاء الدین سیالوی

١٣ محرم الحرام
٭حضرت شیخ غلان واسطی ٢٨٦ھ٭حضرت ابو بکر محمد واسطی مروزی ٣٠٨ھ ٭حضرت سید کریم مشغول سمنانی ٤٧٥ھ ٭حضرت عماد الدین عمار یا سر سہروردی ٥٩٩ھ ٭حضرت شیخ نجیب الدین فردوسی دہلوی ٧٣٣ھ ٭حضرت محمد معزالدین اجودہنی ٧٤٩ھ ٭حضرت شیخ محمد قادری بغدادی ٧٨٢ھ٭حضرت شاہ محمد بلخی ٨٩٩ھ ٭حضرت عبدالرحمن یمنی ٩٠٨ھ ٭حضرت عبدالقادر قدرت حق بغدادی ٩٦٩ھ ٭حضرت مولوی خیر الدین ١١٤٧ھ ٭حضرت علامہ غلام حید راجکوٹی ١٣٧٩ھ

١٤ محرم الحرام
٭حضرت ابو الحسن مالکی ٢٧٧ھ٭حضرت خواجہ کریم الدین علو ممشاد دینوی ٢٩٩ھ ٭حضرت خواجہ ابو محمد ٣٢١ھ ٭حضرت ابو بکر محمد مصری ٣٤٥ھ ٭حضرت خواجہ اختیار الدین عمر ٨٩٠ھ ٭حضرت شیخ سلیمان مندوی ٩٤٤ھ ٭حضرت شیخ محمد حیات ٩٩٤ھ ٭حضرت شیخ عبدالکریم انصاری ١٠٢٤ھ ٭حضرت اخون الہ دل ١١٥٧ھ ٭حضرت سید شاہ حمزہ مارہروی ١١٩٨ھ ٭حضرت سید محمد عبداللہ بغدادی ١٢٠٧ھ ٭حضرت مفتی اعظم مولانا مصطفٰی رضا نوری بریلوی ٭حضرت سید عبدالقدیر میاں ٭حضرت شاہ عبداللہ بغدادی

١٥ محرم الحرام
٭حضرت شیخ ابو محمد بن ابی نصر٦٠٦ھ ٭حضرت شیخ عیسی مغربی ١٠٩٧ھ ٭مولوی مظہر حسین کاندھلوی ١٢٨٢ھ٭حضرت میاں علی محمد چشتی

١٦ محرم الحرام
٭حضرت سیدی عبداللہ صاحب مسند داری سمرقندی ٢٥٥ھ ٭حضرت ابو الفرح فراغی بصری٤٩٧ھ ٭حضرت درویش محمد بن قاسم اودہے ٨٩٩ھ ٭حضرت شاہ قطب الدین ١٠٢١ھ ٭حضرت بابا نصیب الدین غازی کشمیری ١٠٤٧ھ ٭حضرت سید نتھے خان جی مفاد الاکرام ١١٩٥ھ ٭پیر چراغ علی شاہ ١٣٨٩ھ

١٧ محرم الحرام
٭حضرت ابو محمد کشادن روح ٧٩٣ھ ٭حضرت شاہ فضیل مرتبہ الوہیت ٩٩٩ھ ٭حضرت گلزار شاہ کشوی ١٢٦٨ھ ٭مولوی غلام محمد ترنم امرتسری ١٣٧٩ھ ٭حضرت پیر سید جماعت علی شاہ٭حضرت شاہ ابو الرضا محمد

١٨ محرم الحرام
٭حضرت امام المسلمین سیدنا علی زین العابدین رضی اللہ تعالی عنہ ٩٤ھ ٭حضرت شیخ شہاب الدین احمد الزاہد ٢٢٩ھ ٭حضرت شیخ ابو القاسم بن غیاث الدین ٥١١ھ ٭حضرت نور الدین عبدالرحمن جامی ٨٩٨ھ ٭حضرت مخدوم شاہ صفی عرف عبدالصمد ٩٤٥ھ ٭حضرت دیوان محمد ابراہیم اجودہنی ١٠٣١ھ ٭حضرت قطب الدین بن مولانا فخر ١٢٣٣ھ ٭

١٩ محرم الحرام
٭حضرت سیدنا احمد جیلانی٭حضرت احمد قدیر ٥٣٧ھ ٭حضرت میر سید احمد جیلانی ٨٥٣ھ ٭حضرت مولانا درویش محمد اسفراری ٩٧٠ھ ٭حضرت مولانا محمد درویش ہراتی ٩٨٥ھ ٭حضرتر شیخ محمد صادق گنگوہی ١٠٥٣ھ ٭حضرت محی الدین بن یوسف یحییٰ چشتی مدنی ١١١٣ھ ٭حضرت شاہ غلام نبی لاہوری ١٢٤٧ھ ٭

٢٠ محرم الحرام
٭حضرت کرکم ضحاک بصری ٦٠٦ھ

٢١ محرم الحرام
٭حضرت او العباس عبداللہ بُستی ٣٠٤ھ ٭حضرت ابوالعباس احمد حریثی ٣١١ھ ٭حضرت ابو بکر قطبی ٣٦٨ھ ٭حضرت شیخ عبدالجلیل تلمسانی ٣٩٧ھ ٭حضرت شیخ الحرمین ابوالمعالی عبدالملک مکی ٥٤٦ھ ٭حضرت شیخ عدی بن مسافر شامی ہنکاری ٥٥٧ھ ٭حضرت شیخ یونس سیستانی ٦١٩ھ ٭حضرت ظہیر الدین عبدالرحمن بن علی برغش ٧١٦ھ ٭حضرت شاہ سید احمد بخاری ٧٩٩ھ ٭حضرت کرم عدیم بن قاسم انوار ٨٢٣ھ ٭حضرت عبدالنعیم سالک نیشاپوری ٨٤٢ھ ٭حضرت شیخ محمد شریف شوک بابا کشمیری ١٠٢٧ھ ٭حضرت اکسیر عشق ابو المجد پیر محمد سلونی ١٠٩٩ھ ٭خواجہ عبدالرسول قصوری ١٢٩٤ھ ٭حضرت شاہ ابو الفیاض (پٹنہ)

٢٢ محرم الحرام
٭ حضرت شیخ ابو الفتح حمصی٣٠٧ھ ٭حضرت شیخ عبدالجلیل نیشاپوری ٥١٣ھ ٭حضرت محمد شاہ نیک اختر نوشاہی ١٣٣٧ھ ٭حضرت سید اصغر حسین ١٣٦٤ھ ٭حضرت سیدنا امام حسن عسکری رضی اللہ عنہ،

٢٣ محرم الحرام
٭حضرت مجد الدین بغدادی ٦١٩ھ ٭حضرت شیخ امام الدین قادری پلوسی

٢٤ محرم الحرام
٭حضرت سید حمزہ اصغر بغدادی ٭شاہ ابو الحسن پھلواری ١٣٦٥ھ

٢٥ محرم الحرام
٭حضرت ابو الحسن علی ہنکاری ٤٨٢ھ ٭حضرت ابو الحسن علی بن محمد٤٨٦ھ ٭حضرت حافظ عبدالوہاب خالصپوری ١٣١٢ھ ٭حافظ محمد خلیل الرحمن قادری نقشبندی ١٣١٩ھ ٭مولوی مفتی غلام جان ہزاروی ١٣٧٩ھ ٭حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلوی

٢٦ محرم الحرام
٭حضرت قاضی عبدالمقتدر دہلوی ٧٩١ھ ٭حضرت بابا تاج الدین ناگ پوری

٢٧ محرم الحرام
٭حضرت ابو بکر محمدابن داؤد ٣٥٤ھ٭حضرت ابو العباس احمد اسود دینوری ٣٦٧ھ ٭حضرت شیخ ابو داؤد سنجانی طوسی ٤٦٧ھ ٭حضرت ابو سعید شیخ بخاری٥٠١ھ ٭حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی ٨٠٨ھ ٭حضرت شیخ اسلم کشمیری ١٢١٢ھ

٢٨ محرم الحرام
٭حضرت ابی الحسن علی دمشقی ٢٨٦ھ ٭حضرت انس بن مالک صخادم ِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ٥٤ھ٭حضرت شیخ ابو حدین شعیب مغربی ٥٩٠ھ ٭مولوی چراغ علی شاہ قادری محبت پوری ١٣٦٢ھ ٭حضرت شاہ مظفر حسین (پٹنہ)

٢٩ محرم الحرام
٭حضرت خواجہ محمد صالح بلخی ١٠٤٨ھ ٭حضرت حجۃ اللہ شرف الدین محمد نقشبندی ثانی ١١١٤ھ ٭حضرت حجۃ اللہ شرف الدین محمد نقشبندی ثانی ١١١٤ھ٭حضرت مولوی شاہ عبدالغنی دہلوی ١٢٩٦ھ ٭حضرت خواجہ فقیر محمد چورہ شریف ١٣١٥ھ٭حضرت سید علی میراں داتا ٭حضرت محمد نقشبند٭حضرت عبید اللہ احرار

٣٠ محرم الحرام
٭حضرت روز بہان بقلی شیرازی ٦٠٦ھ ٭حضرت شیخ زاہد بن علی مرغابی ٧٩١ھ ٭حضرت سید زین الدین رکنابادی ٧٩٣ھ ٭


— رضی اللہ تعالیٰ عہنم اجمعین و رحمہما اللہ —
Copyright © 2009 - 2018 Download Mp3 Naats | Latest Naats 2018 | Audio and Video Naat Downloads All Rights Reserved.
Power by Blogger